بخارا
بخارا ازبکستان کا پانچواں سب سے بڑا شہر اور صوبہ بخارا کا صدر مقام ہے۔ 1999ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی دو لاکھ 37 ہزار 900 ہے۔ بخارا اور سمرقند ازبکستان کی تاجک اقلیت کے دو اہم ترین شہر ہیں۔
بخارا Buxoro / Бухоро | |
---|---|
![]() ![]() ![]() ![]() | |
![]() ![]() بخارا | |
متناسقات: 39°46′N 64°26′E | |
ملک |
![]() |
ازبکستان کے صوبے | بخارا صوبہ |
سنہ تاسیس | 6th Century BC |
First mention | 500 |
حکومت | |
• قسم | City Administration |
• Hakim (Mayor) | Karim Djamalovich Kamalov |
رقبہ | |
• کل | 73.0 کلو میٹر2 (28.2 مربع میل) |
بلندی | 225 میل (738 فٹ) |
آبادی (2017) | |
• کل | 272,000 |
• کثافت | 2,702/کلو میٹر2 (7,000/مربع میل) |
منطقۂ وقت | GMT +5 |
پوسٹ کوڈ | 2001ХХ |
ٹیلی فون کوڈ | (+998) 65 |
گاڑی کی نمبر پلیٹ |
20 (previous to 2008) 80-84 (2008 and newer) |
ویب سائٹ | http://www.buxoro.uz/ |

بخارا تاریخ میں ایرانی تہذیب کا اہم ترین مرکز تھا۔ اس کا طرز تعمیر اور آثار قدیمہ ایرانی تاریخ اور فن کے ستونوں میں سے ایک ہے۔
بخارا کا قدیم مرکز اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کئی مساجد اور مدرسے قائم ہیں۔

تاریخ اسلام میں بخارا پہلی مرتبہ 850ء میں دولت سامانیہ کا دار الحکومت قرار پایا۔ سامانیوں کے دور عروج میں یہ شہر اسلامی دنیا میں علم و ادب کے مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔
مسلم تاریخ کے معروف عالم امام بخاری اسی شہر میں پیدا ہوئے جنهیں پانچ لاکھ 500000 احادیث زبانی مع سند کے یاد تھیں۔ ان کی کتاب صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
یہ شہر 1220ء میں چنگیز خان کی تباہ کاریوں کا نشانہ بنا جس کے بعد یہ چغتائی سلطنت، تیموری سلطنت اور خان بخارا کی حکومت میں شامل ہوا۔ یہاں کی دوسری مشہور شخصیت بو علی سینا ہیں۔
![]() |
ویکی کومنز پر بخارا سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |