ذوالقر سلمان
ذوالقر سلمان (پیدائش 28 جولائی 1986) ، ایک بھارتی فلمی اداکار ، پلے بیک گلوکار اور فلم پروڈیوسر ہیں جو خاص طور پر ملیالم زبان کی فلموں میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے تمل ، تلگو اور ہندی زبان کی فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ اداکار ماموٹی کے بیٹے ، ذوالقر سلمان سے بزنس مینجمنٹ میں بیچلر کی ڈگری کے ساتھ گریجویشن پرڈیو یونیورسٹیسے کیا اور اداکاری میں کیریئر کا انتخاب کرنے سے پہلے وہ ایک بزنس مینیجر کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔
ذوالقر سلمان | |
---|---|
![]() ذوالقر سلمان فلم کاروان کی تشہیر کے موقع پر 2018 میں ذوالقر سلمان فلم کاروان کی تشہیر کے موقع پر 2018 میں | |
معلومات شخصیت | |
پیدائش | 28 جولائی 1986ء
[1] کوچی |
قومیت | Indian |
زوجہ | Amal Sufiya (شادی. 2011) |
اولاد | 1 |
والدین | Mammootty (father) |
عملی زندگی | |
مادر علمی | پرڈیو یونیورسٹی |
پیشہ |
|
مادری زبان | ملیالم |
پیشہ ورانہ زبان | ملیالم |
دور فعالیت | 2012–present |
ویب سائٹ | |
ویب سائٹ | www |
IMDB پر صفحہ | |
بیری جان ایکٹنگ اسٹوڈیو میں تین ماہ کے اداکاری کے کورس کے بعد ، انہوں نے 2012 کی ملیالم ایکشن ڈراما فلم سیکنڈ شو سے فلمی دنیا میں قدم رکھا جس کے لیے انہیں بہترین ڈیبیو اداکار کے لیے فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ انہوں نے استاد ہوٹل (2012) میں اپنی فلم فیئر ایوارڈ بہترین اداکار ۔ ملیالم کے لیے نامزدگی بھی حاصل کی۔
کامیڈی فلم اے بی سی ڈی: امریکن بورن کنفیوز دیسی (2013) اور روڈ تھرلر نیلکشم پچاکدال چیوانا بھومی (2013)کی تجارتی کامیابی کے بعد ، ذوالقر سلمان تمل رومانٹک مزاحیہ فلم وائے موڈی پیسووم (2014) میں نظر آئے۔ اس کے بعد انہوں نے رومانوی ڈراما فلم بنگلور ڈیز (2014) میں کام کیا ، جو سب سے زیادہ کمانے والی ملیالم فلموں میں شامل ہے۔ انہوں نے منی رتنم کے تنقیدی اور تجارتی اعتبار سے کامیاب رومانوی فلم او کدھل کنمانی (2015) کے ساتھ تامل سنیما میں مزید کامیابی حاصل کی(اس فلم کو 2017ء میں ہندی زبان میں اوکے جانو کے نام سے ری میک کیا گیا)۔ اس کے نتیجے میں ، ذوالقر سلمان نے 2015 کے رومانٹک ڈراما فلم چارلی میں مرکزی کردار کے پیش کرنے پر سراہا گیا اور انہیں کیرالہ اسٹیٹ فلم ایوارڈ -بہترین اداکارکا ایوارڈ دیا گیا ۔ وہ تیلگو بایوپک فلم مہانٹی (2018) اور ہندی فلموں کارواں (2018) اور دی زویا فیکٹر (2019) میں نظر بھی نظر آئے۔
میڈیا میں ذوالقر سلمان کو فیشن آئکن کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ [2] [3] وہ متعدد کاروباری منصوبوں کے مالک ہیں اور مختلف فلاحی تنظیموں اور کاموں کو فروغ دیتے رہتے ہیں۔
ابتدائی زندگی
ذوالقر سلمان 28 جولائی 1986 کو ہندوستان کے کیرلاکے شہر کوچی میں پیدا ہوئے تھے۔ [4] ذوالقر سلمان اداکار ماموٹی اور ان کی بیوی سلفت کے دوسرے بیٹے ہیں، اس کی ایک بڑی بہن سورومی ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم توک ایچ پبلک اسکول ، وٹیٹیلا ، کوچی میں اور ثانوی سطح کی تعلیم چنئی کے سشیہ اسکول میں حاصل کی۔ [5] اس کے بعد وہ امریکا چلا گیا اور پرڈو یونیورسٹی سے بزنس مینجمنٹ میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد ، اس نے امریکا میں ملازمت کی اور بعد ازاں دبئی میں آئی ٹی سے متعلق کاروبار کیا۔ بعد میں انہوں نے اداکاری میں کیریئر کا فیصلہ کیا اور ممبئی کے بیری جان ایکٹنگ اسٹوڈیو میں تین ماہ کے کورس میں شرکت کی۔ [6]
فلمی کیریئر
2011 میں ، سلمان نے فلمی کیرئیر کا آغاز ہدایت کار سری ناتھ راجندرن کی فلم سیکنڈ شو (2012) سے کیا۔ جس میں انہوں نے ایک گینگسٹر ہریال کا کردار ادا کیا۔ [7] فلم کو ملا جلا تبصرہ ملا۔ [8] یہ فلم تجارتی لحاظ سے کامیاب رہی اور انہیں بہترین ڈیبیو اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ ملا ۔ [9] [10]
ذوالقر سلمان کی اگلی فلم ہدایتکار انور رشید کی ملیالم فلم استاد ہوٹل (2012) تھی۔ فلم کو جو تفریح فراہم کرنے والی بہترین پاپولر فلم کے لیے قومی فلم ایوارڈ ملا تھااور فلم نے باکس آفس پر بھی بڑی کامیابی حاصل کی تھی[11] انہوں نے فیضی کے کردار پر بھی داد حاصل کی۔ [12] اپنی اداکاری کے لیے ذوالقر سلمان نے فلم فیئر ایوارڈ ز برائے بہترین اداکار کے لیے پہلی نامزدگی حاصل کی۔ [13] ان کی تیسری فلم تھیورام ، ایک کرائم تھرلرتھی جس کے ہدایتکار روپیش پتامبرن تھے۔ نومبر 2012 کو ریلیز ہونے والی اس فلم کو ملا جلا جائزے ملے تھے اور یہ باکس آفس پر ناکام رہی۔ [14]

2013 میں ، اس نے مارٹن پراکٹ کی مزاحیہ ڈراما اے بی سی ڈی: امریکن بورن کنفیوز دیسی میں کام کیا،اس فلم میں انہوں نے ایک گیت "جانی مون جانی" سے اپنی گلوکاری کا آغاز بھی کیا ، گانا اور فلم دونوں ہی مشہور ہوئے۔ [8] اگرچہ اس فلم کو ملا جلا جائزے ملے ، لیکن ان کی اداکاری کو ناقدین نے خوب پزیرائی دی۔ [15] ذوالقر سلمان امل نیراد کی فلم 5 سندری کال (2013) کا بھی حصہ تھے [16] فلم کو تنقیدی طور پر سراہا گیا ۔ فلم میں ذوالقر سلمان کے کردار بطور فوٹو گرافر جو وہیل چیئر پر پابند تھا، کی کارکردگی کو بھی سراہا [17] اس کے بعد سلمان نے نیلکاشم پچاکدال چیوانا بھومی (2013) نامی ایک روڈ مووی میں سمیر طاھرکے ساتھ مل کر کام کیا۔ [18] فلم میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔ [19] سلمان نے اپنی "لو اسٹوری" ، سنیما گرافر ایلگاپن کے رومانٹک ڈراما فلم پتم پول (2013) میں اداکاری کی ، جس میں ڈیبیو اداکارہ ملاویکا موہنن ان کے ساتھ تھیں۔ یہ فلم ایک تجارتی ناکام تھی۔ [20]
2014 میں ، سلمان نے سلالہ موبائلز میں ایک اور رومانوی کردار ادا کیا ، اس کے ساتھ اداکارہ نظریہ ناظم تھیں ۔ پتم پول کی طرح ، سلالہ موبائلا بھی اداکار کے لیے زیادہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتی ہیں۔ [20] سلمان کی اگلی پیشی تمل-ملیالم زبان کے دو لسانی وائے موڈی پیشووم (2014) میں تھی۔ جبکہ ملیالم ورژن سمسارم اروگیاٹھینو ہانکارم کو ناقص پزیرائی ملی تھی ، تامل ورژن کو مثبت جائزے ملے اور وہ سلیپر ہٹ بن گئی۔ [21] [22] اس فلم کے لیے انھیں دوسرا فلم فیئر ایوارڈ بہترین اداکار ڈیبیو کا ملا[23]
انجلی مینن کے رومانٹک مزاحیہ ڈراما فلم بنگلور ڈیز (2014) میں ، سلمان نے نوین پاؤلی اور نظریہ ناظم کے ساتھ کزن کی حیثیت سے ارجن کا کردار ادا کیا۔ فلم کو مثبت جائزے ملے اور وہ اب تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ملیالم فلموں میں سے ایک کے طور پر سامنے آئی ، اس نے تقریبا ₹500 ملین (امریکی $7.9 ملین) ₹500 ملین (امریکی $7.9 ملین) کمائے۔ [24] اسی سال کے آخر میں ، انہوں نے لال جوس کی فلم وکرمادیتھیان میں اننی مکندنکے ساتھ مشترکہ طور پر کام کیا۔ یہ ایک تجارتی کامیاب تھی۔ [21] اس کے بعد انہوں نے رنجیت کی فلم نجان (2014) میں اپنی "ابھی تک کی سب سے مشکل فلم" کہلانے میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ [25] ان کی اداکاری نے سازگار جائزے حاصل کیے اور انہیں فلمی فیئر میں بہترین اداکار کی دوسری نامزدگی سمیت متعدداعزاز سے سراہا۔[8] [26]
2015 میں ، انہوں نے دو فلموں جینوس محمد کی رومانٹک کامیڈی 100 ڈیز آف لو اور مانی رتنم کے تامل رومانٹک ڈراما اے کدال کانامنی میں نیتھیا مینن کے ساتھ کام کیا۔ [27] مؤخر الذکر مثبت جائزوں کے لیے باکس آفس پر کامیاب رہی۔ [28] اس کے بعد سلمان نے مارٹن پراکٹ کی چارلی (2015) میں ٹائٹلر کردار ادا کیا۔ فلم نے ناقدین کی جانب سے ایک مثبت رد عمل پیدا کیا اور فلم نے آٹھ کیرلہ اسٹیٹ فلم ایوارڈز حاصل کیے ، اس کے ساتھ سلماں کو پہلا بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا۔ [29] فلم فیئر میں انہوں نے تیسری بہترین اداکار کی نامزدگی بھی حاصل کی۔ [30]
ذوالقر سلمان نے سمیر طاھر کے ساتھ 2016 میں اپنی پہلی ریلیز کے لیے دوبارہ فلم کالی میں اداکارہ سائی پلوی کے ساتھ کام کیا ۔ ریلیز ہونے پر ، اس فلم نے ملیالم باکس آفس کے لیے سب سے زیادہ اوپننگ حاصل کی۔ [31] اس کے بعد انہوں نے راجیو روی کے کرائم ڈراما کماتی پادم (2016) میں اداکاری کی۔ فلم نے تنقیدی پزیرائی حاصل کی اور دو سالوں میں اس کی مسلسل تیسری تجارتی کامیاب فلم بن گئی۔[32]
اس کے بعد وہ میں ستھین انتھکاڈکی فیملی ڈراما فلم جومونٖٹے سویشیشانگل (2017). [33] 2016ء کی ملیالم ڈراما فلم جیکبینٹے سوارجراجیم کے ساتھ موازنہ کرنے کے باوجود ، [34] فلم نے تجارتی لحاظ سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ [35] ان کی اگلی ریلیز امل نیرڈ کی رومانٹک ایکشن فلم کامریڈ ان امریکا (2017) تھی۔ دی ہندو اخبار نے اسے "ذوالقر کی 2017 کی بڑی ہٹ" قرار دیا۔ [36] اس کے بعد اس نے بیجوئے نمبیار کی ہدایت کاری میں دو لسانی انتھولوجی سولو (2017) میں چار کردار پیش کیے۔ فلم کو تنقیدی انداز میں پین کیا گیا [37] اور "سامعین کی جانب سے زبردست رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔" [38]
اس کے بعد انہوں نے اداکارہ ساویتری پر بائیوپک دو لسانی مہانٹی میں کام کیا۔ ان کے تلگو کی پہلی فلم ، ناقدین کے مثبت جائزوں کے ساتھ باکس آفس پر تجارتی کامیاب رہی۔ جیمنی گنیشن کے کردار میں ذوالقر سلمان کو سراہا گیا۔ [39] اسی سال کے آخر میں ، ذوالقر سلمان نے کارواں ساتھ ہندی فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ اگرچہ فلم کو "مخلوط رد عمل" ملا ، لیکن ذوالقر سلمان کی اداکاری کو سراہا گیا۔ [40]
2019 میں ، انہوں نے بیورو نوفال کی ہدایت کاری میں ایک ملیالم رومانٹک کامیڈی فلم اورو یامندن پریم کتھا میں کام کیا۔ کاروان کے بعد ، ذوالقر سلمان کی اگلی بالی ووڈ فلم <i id="mwASg">دی زویا فیکٹر</i> ستمبر 2019 کو ریلیز ہوئی۔ [41] ابھیشیک شرما کی انوجا چوہان کے ناول دی زویا فیکٹر کے فلمی موافقت نے باکس آفس پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا لیکنذوالقر سلمان کی اداکاری کو سراہا گیا۔ [42]
ذوالقر سلمان کی آنے والی فلمیں وان اور کننم کنم کولیئڈیٹھالنامی دو تامل فلمیں ہیں ۔ [43] [44] [45]
ذوالقر سلمان شمسو زیبا کی رومانٹک کامیڈی فلم کے ساتھ بطور پروڈیوسر پہلی فلم مانیئ رایلے <i id="mwAUQ">اشوک</i> ان پروڈکشن کمپنی وےفاریرفلمز کے بینر تلے بنائی جارہی ہے [46] [47] ان کی آئندہ کرائم تھرلر فلم کروپ میں جلوہ گر ہونے کا ارادہ ہے جس میں وہ سکومارا کورپکا کردار ادا کر رہے ہیں ، اس کے ساتھ ہی اس کا دوسرا پروڈکشن وینچر بھی ہے۔ [48] [49] [50] [51] بطور پروڈیوسر اور اداکار ان کا اگلا پروجیکٹ ایک بلا عنوان فلم ہے جسے "پروڈکشن نمبر 3" کہا جاتا ہے جہاں وہ سریش گوپی ، شوبانا اور کلیانی پریادرشن کے ساتھ کام کریں گے۔
ذاتی زندگی
دسمبر 2011 کو 22، انہوں نے ایک آرکٹیکٹ خاتون عمل صوفیہ سے طے شدہ شادیکی . عمل کا تعلق شمالی ہندوستان کے ایک مسلمان خاندان سے ہے جو چنئی میں آباد ہے۔ [52] [53] جوڑے کی مئی 2017 میں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام مریم امیرا سلمان ہے[54]
حوالہ جات
- Devesh Sharma (28 جولائی 2016)۔ "Happy Birthday DQ!"۔ فلم فیئر۔ مورخہ 30 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Padmakumar K (23 اپریل 2016)۔ "10 reasons why Dulquer Salmaan is emerging as an undisputed youth icon"۔ Malayala Manorama۔ مورخہ 30 جون 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Priya Gupta (28 اپریل 2015)۔ "Times 50 Most Desirable Men 2014"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ مورخہ 11 جولائی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
"Vikram, Dulquer, Samantha are style icons!"۔ Sify۔ 28 اپریل 2015۔ مورخہ 13 مئی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
Jessy John (29 ستمبر 2015)۔ "Dulquer to Prithviraj: Five young Mollywood actors to watch out for"۔ The Times of India۔ مورخہ 24 ستمبر 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
"Proud moment: Dulquer Salmaan among the 50 most influential young Indians"۔ Malayala Manorama۔ 3 جولائی 2016۔ مورخہ 4 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
Benson Philip (2 جون 2016)۔ "5 Looks of Dulquer Salmaan which proves he is a fashion icon"۔ The Times of India۔ مورخہ 24 ستمبر 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ - Sushmita Sen (28 جولائی 2015)۔ "Happy Birthday Dulquer Salmaan: 'OK Kanmani' Actor Thanks Fans For Wishes"۔ International Business Times۔ مورخہ 5 مارچ 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Surya Praphulla Kumar (28 فروری 2014)۔ "A brand new Salmaan"۔ The New Indian Express۔ مورخہ 23 جون 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Shevlin Sebastian (29 جنوری 2012)۔ "Living under a cinematic giant"۔ The New Indian Express۔ مورخہ 23 جون 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Sridevi Sreedhar (3 فروری 2012)۔ "I want to go step by step: Dulquer Salmaan"۔ Sify۔ مورخہ 1 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Anu James (3 فروری 2016)۔ "From 'Second Show' to 'Charlie': A look into Dulquer Salmaan's acting career of 4 years"۔ International Business Times۔ مورخہ 14 فروری 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Second Show celebrates 100 days"۔ Sify۔ 19 جون 2012۔ مورخہ 22 اکتوبر 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Filmfare Awards (South): The complete list of winners"۔ سی این این نیوز 18۔ 21 جولائی 2013۔ مورخہ 10 مئی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Shobha Warrier (20 مارچ 2013)۔ "Malayalam films strike gold at the National Awards"۔ Rediff۔ مورخہ 29 فروری 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Paresh C. Palicha (2 جولائی 2012)۔ "Review: Ustad Hotel offers a delicious meal"۔ Rediff۔ مورخہ 4 مارچ 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
"Movie Review: Ustad Hotel"۔ Sify۔ مورخہ 27 مارچ 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ - "Filmfare Awards 2013 (South): Complete List of Nominees"۔ International Business Times۔ 6 جولائی 2013۔ مورخہ 17 جون 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Malayalam movie 'Theevram' to have its sequel"۔ سی این این نیوز 18۔ 10 دسمبر 2012۔ مورخہ 24 جون 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Review : ABCD"۔ Sify۔ مورخہ 1 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Ammu Zachariah (9 فروری 2013)۔ "Dulquer, Reenu in Amal Neerad's 'Anju Sundarikal' – Times Of India"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ مورخہ 22 اکتوبر 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Aswin J. Kumar۔ "Anchu Sundarikal Movie Review"۔ The Times of India۔ مورخہ 30 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Dulquer, Sunny Wayne starts another journey together"۔ Sify۔ 30 جنوری 2013۔ مورخہ 3 مارچ 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Kerala Box-Office – Eid Weekend – August 9 to 11"۔ Sify۔ 13 اگست 2013۔ مورخہ 1 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Sethumadhavan N (7 جون 2015)۔ "Nivin, Dulquer, Prithvi and Fahadh, the new stars of Malayalam cinema"۔ Bangalore Mirror۔ مورخہ 12 ستمبر 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- M. P. Praveen (27 دسمبر 2014)۔ "Tinsel town: The year of the underdogs"۔ The Hindu۔ مورخہ 30 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "'Vaayai Moodi Pesavum', the surprise sleeper hit"۔ Sify۔ 16 مئی 2014۔ مورخہ 1 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Winners of 62nd Britannia Filmfare Awards South"۔ Filmfare۔ 27 جون 2015۔ مورخہ 29 جنوری 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- S. S. Kamal (6 جنوری 2015)۔ "No Hyderabad days yet"۔ Bangalore Mirror۔ مورخہ 6 اگست 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Shiba Kurian (18 جون 2015)۔ "Njaan is the most challenging film yet: Dulquer"۔ The Times of India۔ مورخہ 26 ستمبر 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Nicy V.P (4 جون 2015)۔ "62nd Filmfare Awards South 2015: Dulquer Salmaan, Nivin Pauly, Mammootty, Biju Menon, Suresh Gopi Nominated"۔ International Business Times۔ مورخہ 1 فروری 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Juny Jacob (2 جون 2015)۔ "'Kanmani' of south India"۔ Malayala Manorama۔ مورخہ 9 جنوری 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "'Kanchana 2' and 'OK Kanmani' are super hits!"۔ Sify۔ 21 اپریل 2015۔ مورخہ 5 اکتوبر 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "'Charlie' sweeps Kerala State film awards; 'Ozhivudivasathe Kali' adjudged Best film"۔ The Hindu۔ 1 مارچ 2016۔ مورخہ 30 جولائی 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Nominations for the 63rd Britannia Filmfare Awards (South)"۔ Filmfare۔ مورخہ 24 جون 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Anu James (29 مارچ 2016)۔ "Kerala box office: Dulquer Salmaan's 'Kali' becomes top Malayalam grosser on first day; breaks 'Charlie' records"۔ International Business Times۔ مورخہ 13 اپریل 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Anu James (6 جون 2016)۔ "'Charlie', 'Kali' and 'Kammatipaadam:' Dulquer Salmaan gives 3 back-to-back hits at Kerala box office"۔ International Business Times۔ مورخہ 29 جون 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Anu James (20 جنوری 2017)۔ "Dulquer Salmaan's Jomonte Suvisheshangal review: Live audience updates"۔ International Business Times۔ مورخہ 22 جنوری 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "'Jomonte Suvisheshangal' a rip off of 'Jacobinte Swargarajyam'?"۔ Sify۔ 24 جنوری 2017۔ مورخہ 25 جنوری 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Anu James (31 جنوری 2017)۔ "Kerala box office: Munthirivallikal Thalirkkumbol becomes 2nd fastest Mohanlal movie to cross Rs 20 crore mark"۔ International Business Times۔ مورخہ 1 فروری 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Saraswathy Nagarajan (22 ستمبر 2017)۔ "Keeping up with Dulquer Salmaan"۔ The Hindu۔ مورخہ 23 ستمبر 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- S Subhakeerthana (8 اکتوبر 2017)۔ "50 shades of Dulquer Salmaan: I enjoyed playing a negative character in 'Solo'"۔ New Indian Express۔ مورخہ 6 نومبر 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Ashameera Aiyappan (16 اکتوبر 2017)۔ "Dulquer Salmaan on Solo climax controversy: It is like taking away creativity from an artiste"۔ Indian Express۔ مورخہ 13 اکتوبر 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Neeshita Nyayapati (30 اگست 2018)۔ "Keerthy Suresh, Dulquer Salmaan and Nag Ashwin's Mahanati rakes in staggering TRP"۔ The Times of India۔ مورخہ 1 ستمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 ستمبر 2018۔
- "'Karwaan' actor Dulquer Salmaan was asked if he would do a biopic on his father Mammootty, here's what he had to say"۔ 7 اگست 2018۔ مورخہ 8 اگست 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Nandini Ramnath (20 ستمبر 2019)۔ "'The Zoya Factor' movie review: Dulquer Salmaan shines in romcom starring Sonam Kapoor"۔ Scroll.in (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2019۔
- Nandini Ramnath۔ "'The Zoya Factor' movie review: Dulquer Salmaan shines in romcom starring Sonam Kapoor"۔ Scroll.in (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اکتوبر 2019۔
- "Dulquer to begin work on Bollywood film 'The Zoya Factor'"۔ The News Minute۔ 1 مارچ 2018۔
- India Today Web Desk ChennaiJuly 28؛ 2019UPDATED July 29؛ 2019 11:11 Ist۔ "Kannum Kannum Kollaiyadithaal trailer out: Dulquer Salmaan takes you on a crazy ride"۔ India Today (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اگست 2019۔
- Anjana George (16 جولائی 2018)۔ "Dulquer begins shooting for Oru Yamandan Prema Kadha"۔ The Times of India۔ مورخہ 21 اگست 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Dulquer Salmaan's production titled 'Maniyarayile Ashokan' - The New Indian Express"۔ www.newindianexpress.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اکتوبر 2019۔
- "Dulquer to play a cameo in Jacob Gregory film - Times of India"۔ The Times of India (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اکتوبر 2019۔
- "Dulquer Salmaan's next titled Kurup"۔ Indian Express۔ 30 جولائی 2018۔ مورخہ 31 جولائی 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Deepa Soman (15 جولائی 2017)۔ "Dulquer to play multiple characters in Ra Karthik's Tamil travelogue"۔ The Times of India۔
- "Imman and Dulquer to collaborate"۔ New Indian Express۔ 4 نومبر 2017۔ مورخہ 6 نومبر 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Anu James (4 جنوری 2017)۔ "Here's an update on Dulquer Salmaan's next Tamil project after OK Kanmani"۔ International Business Times۔ مورخہ 22 جنوری 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- Shiba Kurian۔ "Mollywood celebs's honeymoon diaries"۔ The Times of India۔ مورخہ 30 اکتوبر 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Mammootty's son gets married"۔ Rediff۔ 23 دسمبر 2011۔ مورخہ 4 مارچ 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
- "Archived copy"۔ مورخہ 6 مئی 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مئی 2017۔