قومی مصالحت

قومی مصالحت کی اصطلاح کو سیاسی مسائل کے شکار ملک میں نام نہاد "قومی اتحاد" قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ عمل افغانستان میں سوویت اتحاد کی مشاورت کے بعد ببرک کارمل کے زیر قیادت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت نے دس نکاتی مفاہمتی پروگرام کا آغاز کیا. [1] اس مقصد کے لیے ببرک کارمل نے چھ افراد پر مشتمل گروپ بنایا، ان تمام افراد کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں تھا۔ بعد میں محمد نجیب اللہ نے 1987ء میں اس پروگرام میں توسیع کی۔ 90 کی دہائی کے آغاز میں ثور انقلاب کے بعد جاری افغان خانہ جنگی کے خاتمہ تک اس پروگرام کو جاری رکھا گیا۔[2] قومی مصالحتی اجلاس میں یہ اس نیتجے پر پہنچے کہ سوویت اتحاد کی افواج کو افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔[3]

نیا آئین

1985ء میں میخائل گورباچوف کو سوویت اتحاد کی کمیونسٹ پارٹی کا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔ گورباچوف نے نئے افغان صدرمحمد نجیب اللہ پر زور دیا کہ وہ جمہوری جمہوریہ افغانستان میں امن قائم کرنے کی تجویز کے ساتھ  سامنے آئے۔ 15 جنوری 1987 ء کو نجیب اللہ نے مجاہدین اور حکومتی افواج کے مابین چھ ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا، اس عرصے میں وہ "قومی مصالحت" کے لیے مختلف پیشکشوں لے کرآئے۔ مزاحمتی دستوں نے جولائی 1987ء میں غور صوبے میں ایک اجلاس میں ان تجاویز کا جواب دیا۔ یہ اجلاس مجاہدین کے رہنما اسماعیل خان نے ہرات صوبے  میں منعقد کیا تھا۔ . نجیب اللہ کی تجویز مسترد کردی گئی اور چھ ماہ کی جنگ بندی کر دی گئی۔[2]

نجیب اللہ کی زیر قیادت 1987ء میں لویہ جرگہ نے ایک نیا آئین منظور کیا۔ نئے آئین نے ملک میں ایک پارٹی کی حکومت کو ختم کر دیا اس کی جگہ لویہ جرگہ ، سینیٹ اور ماضی کی انقلابی کونسل کی جگہ ایوان زیریں وولسی جرگہ نے لی[4]۔ ملک کے قانونی نام کے ساتھ "جمہوری" ختم کر دیا گیا اور ملک کا قانونی نام جمہوریہ افغانستان رکھا گیا۔ کافی مذاکرات کے بعد ریاست کا سرکاری مذہب دوبارہ اسلام رکھ دیا گیا۔[2]

حوالہ جات

  1. Michael Semple (2009-01-01)۔ Reconciliation in Afghanistan (انگریزی زبان میں)۔ US Institute of Peace Press۔ صفحہ 18۔ آئی ایس بی این 9781601270429۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Willem Vogelsang۔ The Afghans۔ Google Books۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-03-22۔
  3. Douglas A. Borer۔ Superpowers defeated۔ Google Books۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-03-22۔
  4. Eur, Europa Publications Staff and Europa Publications۔ The Far East and Australasia 2003۔ Google Books۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-03-22۔

بیرونی روابط

آئین افغانستان (1987ء)

This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.