التتمش
شمس الدین التتمش (وفات: 28 اپریل 1236ء) سلطنت دہلی كا تیسرا حكمران اور خاندان غلاماں كا تیسرا بادشاه، جو قطب الدین ایبک کا غلام تھا اور اس نے ہونہار دیکھ کر اسے اپنا داماد بنا لیا تھا۔
التتمش | |||||||
---|---|---|---|---|---|---|---|
![]() | |||||||
معلومات شخصیت | |||||||
وفات | 28 اپریل 1236 مہرؤلی | ||||||
مدفن | قطب کمپلیکس | ||||||
زوجہ | قطب بیگم شاہ ترکان | ||||||
اولاد | ناصر الدین محمود ، رضیہ سلطانہ ، معز الدین بہرام شاہ ، رکن الدین فیروز | ||||||
خاندان | خاندان غلاماں | ||||||
مناصب | |||||||
سلطان سلطنت دہلی | |||||||
دفتر میں مئی 1211 – 28 اپریل 1236 | |||||||
| |||||||
عملی زندگی | |||||||
پیشہ | سیاست دان | ||||||
1211ء میں قطب الدین ایبک کے نااہل بیٹے آرام شاہ کو تخت سے اتار کر خود حکمران بن گیا۔ اس وقت وہ بہار کا صوبیدار تھا۔ تخت نشین ہوتے ہی اُسے ان صوبیداروں کی سرکوبی کرنی پڑی جو خود مختار بن بیٹھے تھے۔ خطۂ پنجاب اور غزنی میں تاج الدین، سندھ میں ناصر الدین قباچہ اور بنگال میں خلجیوں نے سر اٹھایا۔ اس نے سب کو مطیع کیا۔ 1226ء سے 1234ء تک کے درمیانی مدت میں راجپوتوں سے جنگ کرکے رنتھمبور، منڈو، گوالیار اور اُجین فتح کیے.
1221ء میں منگول سردار چنگیز خان خوارزم شاہی سلطنت کے بادشاہ جلال الدین خوارزم کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے سندھ تک آ پہنچا، لیکن دریا سے پہلے تمام علاقے کو تباہ برباد کرکے واپس چلا گیا اور ہندوستان اس خوف ناک آفت سے بچ گیا۔
التتمش نے قطب مینار اور قوت اسلام مسجد کو مکمل کرایا، جنہیں قطب الدین ایبک اپنی زندگی میں نامکمل چھوڑ گیا تھا۔
التتمش نے رضیہ سلطانہ کو اپنا جانشیں مقرر کیا۔
![]() |
ویکی کومنز پر التتمش سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
ماقبل آرام شاہ |
خاندان غلاماں نومبر 1211ء– 28 اپریل 1236ء |
مابعد رکن الدین فیروز |
ماقبل آرام شاہ |
سلطان سلطنت دہلی نومبر 1211ء– 28 اپریل 1236ء |
مابعد رکن الدین فیروز |