محمد بن ماجہ

ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ الربعی القزوینی (وفات: 28 فروری 886ء) ایک محدث ہیں۔ ان کا شمار ان چھ محدثین میں ہوتا ہے جن کو سب سے زیادہ مستند تسلیم کیا گیا جاتا ہے۔ اور جن کی کتب صحاح ستہ کے نام سے مشہور ہیں۔ انہیں احادیث جمع کرنے کا شوق تھا اور اس سلسلے میں عراق، عرب، مصر تک سفر کیا۔ ان کی تصنیف کا نام سنن ابن ماجہ ہے۔ ابن خلکان نے لکھا ہے کہ انھوں نے تفسیر قرآن بھی لکھی تھی۔ لیکن وہ اب ناپید ہے۔

امام  
ابو عبداللہ محمد بن یزید ابن ماجہ الربعی القزوینی
(عربی میں: محمد بن يزيد بن ماجه) 
محمد بن ماجہ

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 824 [1] 
قزوین  
وفات 28 فروری 886 (6162 سال) 
قزوین  
شہریت دولت عباسیہ  
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک شافعی
عملی زندگی
استاذ ابن ابی شیبہ  
پیشہ محدث  
شعبۂ عمل علم حدیث  
کارہائے نمایاں سنن ابن ماجہ  
باب اسلام

نام نسب

ابوعبداللہ، نام نامی: محمد بن یزید بن عبد اللہ ابن ماجہ القزوینی الربعی ہے۔ عراق کے مشہور شہر قزوین میں 209ھ مطابق 824/ میں پیدائش ہوئی۔ اسی نسبت سے قزوینی کہلائے اور قبیلہٴ ربیعہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے ربعی کہلاتے ہیں۔ ”ماجہ“ کے بارے میں سخت اختلاف ہے۔ بعض اس کو دادا کا نام سمجھتے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔ بعض کا قول ہے کہ یہ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ہے؛ لیکن مولانا عبد الرشید نعمانی فرماتے ہیں: ”اس بحث کو طے کرنے کا حق سب سے زیادہ موٴرخین قزوین کو ہے کہ ”أہل البیت أدریٰ بما فیہ“ اور ان حضرات کے بیانات حسبِ ذیل ہیں: محدث رافعی، تاریخ قزوین میں امام ابن ماجہ کے تذکرہ میں لکھتے ہیں: ان کا نام محمد بن یزید ہے اور ماجہ یزید کا لقب ہے جس پر تشدید نہیں ہے اور حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں حافظ حنبلی کے حوالے سے جو قزوین کے مشہور موٴرخ ہیں، نقل کیا ہے کہ ماجہ یزید کا عرف تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس بارے میں خود امام ابن ماجہ کے مشہور ترین شاگرد حافظ ابوالحسن بن القطان کا بیان موجود ہے جس میں وہ نہایت جزم کے ساتھ تصریح کرتے ہیں کہ ماجہ آپ کے والد کالقب تھا دادا کا نہیں، ظاہر ہے کہ آپ کے والد ماجد ہی کا لقب تھا اور ماجہ فارسی زبان کا لفظ ہے، جو غالباً ”ماہ“ یا ”ماہجہ“ کا معرب ہے، اس سے ظاہر ہے کہ امام ابن ماجہ عجمی نژاد ہیں عربی النسل نہیں؛ اس لیے ربعی جو آپ کی نسبت ہے یہ نسلی نہیں؛ بلکہ نسبت ولاء ہے۔“ [2] [3]

تحصیل علم

امام ابن ماجہ نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو آپ کے شہر قزوین میں بڑے بڑے علما مثلاً علی بن محمد طنافسی، عمرو بن رافع، اسماعیل بن ابو سہل، ہارون بن موسیٰ تمیمی وغیرہ موجود تھے۔ ظاہر ہے کہ امام ابن ماجہ نے ابتدائی تعلیم کے لیے انھی لوگوں سے استفادہ کیا ہو گا، لیکن افسوس ہے کہ اس پہلو سے امام صاحب کے تفصیلی حالات معلوم نہیں ہوتے۔

شیوخ و اساتذہ

امام صاحب کے مشہورشیوخ اور اساتذہ کے نام درج ذیل ہیں:

  1. ابراہیم بن مندر حزامی
  2. ابوبکر بن ابی ثمبہ
  3. جبارہ بن مغلس
  4. صحدون بن عمارہ بغدادی
  5. داؤد بن رشید
  6. سہل بن اسحاق
  7. ابراہیم واسطی
  8. عبد اللہ بن محمد

امام صاحب کے زمانے میں محدثین اطراف عالم میں پھیلے ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے حصول حدیث کی خاطر مختلف ملکوں کے مثلاً خراسان، عراق، حجاز، مصر، شام، بصرہ، کوفہ، مکہ، رے اور بغداد وغیرہ سفر کیے۔ امام صاحب کے ان سفروں کی ابتدا تقریباً بائیس سال کی عمر میں ہوئی۔

مجلس درس

امام ابن ماجہ کی تدریسی خدمات کی تفصیلات ہمیں کتابوں میں نہیں ملتیں، لیکن ظاہر ہے کہ ان کے شاگردوں کی موجودگی ہمیں اس بات کا پتا دیتی ہے کہ انھوں نے اپنے دور میں تدریسی خدمات سر انجام دی ہیں۔

تلامذہ

امام صاحب سے کسب فیض کرنے والوں میں نمایاں نام یہ ہیں:

  1. ابراہیم بن دینار جرشی
  2. احمد بن ابراہیم قزوینی
  3. ابو الطیب احمد بن روح شعرانی
  4. احمد بن محمد مدنی
  5. اسحاق بن محمد قزوینی
  6. جعفر بن ادریس

تصنیف و تالیف

امام ابن ماجہ نے تین اہم کتابیں لکھیں:

  1. پہلی سنن ابن ماجہ ہے۔ یہ ابن ماجہ کا سب سے بڑا علمی و تصنیفی اور دینی کارنامہ ہے، موجود کتب حدیث میں یہ ایک اہم اور متداول کتاب تصور کی جاتی ہے۔
  2. دوسری تصنیف تفسیر القرآن ہے۔ علامہ ابن کثیر اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ابن ماجہ کی ایک ضخیم و جامع تفسیر ہے۔ علامہ سیوطی نے دور صحابہ اور دور تابعین کے بعد کی تفاسیر کا ذکر کرنے کے بعد تفسیر ابن جریر کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے۔ بہرحال، یہ اب ناپید ہے۔
  3. امام ابن ماجہ کی تیسری تصنیف تاریخ قزوین کی ایک کتاب ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ بھی میسر نہیں ہے۔

علما کی شہادت

امام ابن ماجہ کے فضل و کمال، جلالت شان اور حفظ حدیث کا اعتراف ہر دور کے علما نے کیا ہے۔ حافظ ابو یعلیٰ خلیلی فرماتے ہیں : وہ ایک بلند پایہ ،معتبر اور لائق حجت محدث تھے۔ ان کی عظمت و ثقاہت پر سب کا اتفاق ہے۔ ان کو فن حدیث سے پوری واقفیت تھی اور وہ اس کے جلیل القدر حافظ تھے۔ ابو القاسم رافعی بیان کرتے ہیں کہ آئمۂ مسلمین میں ابن ماجہ بھی ایک بڑے معتبر امام ہیں، ان کی قبولیت پر سب کا اتفاق ہے۔ علامہ ابن جوزی کہتے ہیں کہ وہ حدیث، تاریخ اور تفسیر کے ممتاز ماہر تھے۔ علامہ ابن خلکان کے نزدیک وہ حدیث کے امام تھے اور اس کے متعلقات پر بڑا عبور رکھتے تھے۔ علامہ ذہبی کا بیان ہے کہ ابن ماجہ عظیم الشان حافظ و ضابط، صادق القول اور وسیع العلم تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ وہ صاحب سنن، حافظ حدیث اور امام فن تھے۔

وفات

امام ابن ماجہ نے22 رمضان المبارک 273 ہجری کو 64 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کی وفات پر بعض شعرا نے نہایت پر درد مرثیے کہے۔

مناقب

امام ابن ماجہ کے تفصیلی حالات زندگی اخفا میں ہیں۔ اس لیے ہم کتابوں میں ان کے اخلاق و اعمال کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں پاتے۔ حافظ ابن کثیر نے صرف اس قدر لکھا ہے کہ وہ علم و فضل کی طرح تدین و تقویٰ اور زہد و صلاح کے بھی جامع تھے۔ احکام شریعت کی سختی سے پابندی کیا کرتے تھے اور اصول وفروع میں پورے طور پر متبع سنت تھے۔

حوالہ جات

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/11944979X — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. امام ابن ماجہ اور علم حدیث، ص2
  3. ماہنامہ دار العلوم ،اكتوبر 2014ء،اشرف عباس قاسمی
This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.