ملکا شراوت
ملکا شراوت (انگریزی: Mallika Sherawat) بھارتی سنیما کی مشہور ہیروئین اور ایک ماڈل ہے۔ ملیکا شراوت ایک ایسی بھارتی اداکارہ ہے جو ہندی، انگریزی اور چینی زبان کی فلموں میں کام کرتی ہے۔ خواہش (2003) اور قتل (2004) جیسی فلموں میں وہ پردے پر دلیرانا رویئے کے لیے مشہور ہوئی۔[2]ملیکا شراوت نے خود کو سیکس سیمبل کے طور پر قائم کیا ہے اور بالی وڈ میں سب سے مشہور ہستیوں میں سے ایک[3] ہے۔ وہ پھر کامیاب رومانٹک کامیڈی فلم 'پیار کے سائیڈ افیکٹس' (2006ء) میں نظر آئی۔ جس فلم کی وجہ سے اس کی تنقیدی تعریف کی گئی۔[4][5] اس کے بعد، وہ 'آپ کا سرور - دی ریئل لوور اسٹوری'، 'ویلکم' (2007ء) فلم میں آئی۔ ان فلموں سے اس کو سب سے بڑی واپاری کامیابی ملی۔ ان فلموں کے بعد وہ 'ڈبل دھمال' (2011ء) جیسی فلم میں دکھائی دی۔ وہ کچھ بالی وڈ ستاروں میں سے ایک ہے، جو ہالی وڈ میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔[6][7]
ملکا شراوت | |
---|---|
![]() | |
معلومات شخصیت | |
پیدائش | 24 اکتوبر 1976 (43 سال)[1] روہتک |
شہریت | ![]() |
عملی زندگی | |
مادر علمی | دہلی یونیورسٹی |
پیشہ | اداکارہ ، ماڈل ، فلم اداکارہ ، ٹیلی ویژن اداکارہ |
مادری زبان | ہریانوی |
ویب سائٹ | |
ویب سائٹ | باضابطہ ویب سائٹ |
IMDB پر صفحات | |

ابتدائی زندگی
ملکا شراوت کا جنم ہریانہ کے ضلع حصار کے ایک چھوٹے سے گاؤں موٹھ میں ہوا تھا۔[8] وہ ایک جاٹ خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ ملکا کے والد کا نام مکیش کمار لامبا ہے۔ اس نے ریما نام کی اور اداکاراؤں سے الجھن سے بچنے کے لیے "ملکا" اپنا اسکرین نام اپنایا، جس کا مطلب "مہارانی" ہے۔ "شراوت" اس کی ماں کا پہلا نام ہے۔[9] شراوت کے خاندان نے اب اس کے کیریئر کو قبول کر لیا ہے اور اب اس کا خاندان اور شراوت ایک دوسرے سے صلح کر رہے ہیں۔[10] ملکا شراوت دہلی پبلک اسکول، متھرا روڈ میں پڑھی ہے۔ اس نے دہلی یونیورسٹی یے مرانڈا ہاؤس سے فلسفے کی ڈگری حاصل کی ہے۔[11]
کیریئر
فلموں میں داخل ہونے سے قبل، شراوت نے ٹیلیوژن میں کمرشل اشتہاروں، امیتابھ بچن کے ساتھ BPL میں اور شاہ رخ خان کے ساتھ سینٹرو میں کام کیا۔[12] وہ نرمل پانڈے کی "مار ڈالا" اور سرجیت بندرکھیا کی "لک تنو" سنگیت ویڈیو میں بھی ظاہر ہوئی۔[13] اس نے 'جینا صرف میرے لیے' نام کی ایک چھوٹی جسی فلم سے فلمی کیریئر میں شروعات کی۔ ملکا شراوت نے 2004ء میں آئی فلم 'خواہش' میں کام کیا۔ 'مرڈر' فلم میں اس کی اداکاری کے لیے ملکا کو زی سن ایوارڈ میں اس کو 'بیسٹ ایکٹریس' کے لیے ایوارڈ ملا۔[14] 2005ء میں ملکا شراوت نے ایک چینی فلم 'دی مائتھ' میں کام کیا۔ جس میں اس نے جیکی چین کے ساتھ کام کیا۔ اس نے اس فلم میں ایک بھارتی لڑکی کا کردار نبھایا، جو جیکی چین کے فلم کے کردار کو ندی سے بچاتی ہے۔ یہ اس کی پہلی بین الاقوامی فلم تھی۔[15] ٹائم میگزین کے رچرڈ کورلس نے فلم کو مشہور کرنے کے لیے کینس فلم فیسٹیول پر اس کی فلم کی کارکردگی پر بہت دھیان دیا۔[16]
مزید دیکھیے
- بھارتی فلمی اداکارا ؤں کی فہرست
- بھارتی سنیما
حوالہ جات
- آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm1324246 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 جنوری 2016
- Suchitra Behal (25 اپریل 2004)۔ "Bold Sherawat"۔ The Hindu۔ Chennai, India۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔
- Suhasini Haidar (11 جون 2003)۔ "Sex now selling in Bollywood"۔ CNN۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔
- name="in.rediff.com">http://in.rediff.com/movies/2006/sep/15pyaar.htm
- Pyaar Ke Side Effects Review - Bollywood Hungama
- Alexandra Alter (6 فروری 2009)۔ "A Passage to Hollywood"۔ The Wall Street Journal۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔
- Simi Horwitz (25 فروری 2010)۔ "From Bollywood to Hollywood"۔ Backstage.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔
- "It's difficult for me to get over my father's betrayal: Mallika Sherawat"۔ The Times of India۔ 7 اکتوبر 2013۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مارچ 2014۔
- name="outlook">"Youngsters to change the rule in Bollywood: Mallika Sherawat"۔ Outlook India۔ 24 ستمبر 2005۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔
- Deepender Deswal (25 جنوری 2011)۔ "Mallika's great grandfather more popular than her at her native village in Haryana"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جنوری 2011۔
- "Delhi Public School, Mathura Road"۔ Zemu.in۔ مورخہ 21 جولائی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔
|archiveurl=
اور|archive-url=
ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت);|archivedate=
اور|archive-date=
ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت) - Monika Balwa (29 مارچ 2003)۔ "17 kisses and a crab on her breast"۔ Rediff۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔
- "Mallika Sherawat Biography"۔ 15 جولائی 2010۔ مورخہ 25 جولائی 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔
- Taran Adarsh (28 دسمبر 2004)۔ "The Best of 2004"۔ Indiafm.com۔ مورخہ 18 مئی 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔
- "Mallika dazzles at Cannes Film Festival"۔ The Times of India۔ 18 مئی 2005۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔
- Richard Corliss (22 مئی 2005)۔ "Like Only Cannes Can"۔ Time۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2010۔